جو لوگ کہتے ہیں کہ اہل حدیث کی نماز قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ان لوگوں کے لیے یہ پوسٹ تیار کی گئی
1۔ ۔صحيح البخاري
كِتَاب الْأَذَانِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
74. بَابُ إِقَامَةِ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاَةِ:
74. باب: صف برابر کرنا نماز کا پورا کرنا ہے۔
اس باب میں 2 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدثنا ابو الوليد، قال: حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة".
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے قتادہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفیں برابر رکھو کیونکہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔
-------- --------------
-------------- ---------- ------------
☆2 البخاري
كِتَاب الْأَذَانِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
76. بَابُ إِلْزَاقِ الْمَنْكِبِ بِالْمَنْكِبِ وَالْقَدَمِ بِالْقَدَمِ فِي الصَّفِّ:
76. باب: صف میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا۔
اس باب میں 2 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
وقال النعمان بن بشير: رايت الرجل منا يلزق كعبه بكعب صاحبه.
اور نعمان بن بشیر صحابی نے کہا کہ میں نے دیکھا (صف میں) ایک آدمی ہم میں سے اپنا ٹخنہ اپنے قریب والے دوسرے آدمی کے ٹخنہ سے ملا کر کھڑا ہوتا۔
867 - Q725
-_-_--_-_-_-_-_-_- _-_-_-_-_-_-_-_-
3☆<صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
83. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي التَّكْبِيرَةِ الأُولَى مَعَ الاِفْتِتَاحِ سَوَاءً:
83. باب: تکبیر تحریمہ میں نماز شروع کرتے ہی برابر دونوں ہاتھوں کا (کندھوں یا کانوں تک) اٹھانا۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 735
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه، إذا افتتح الصلاة وإذا كبر للركوع وإذا رفع راسه من الركوع رفعهما، كذلك ايضا، وقال: سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد، وكان لا يفعل ذلك في السجود".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے «الله اكبر» کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھ بھی اٹھاتے (رفع یدین کرتے) اور رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد» کہتے تھے۔ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
879 - 735
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
4🎋صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
89. بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ:
89. باب: اس بارے میں کہ تکبیر تحریمہ کے بعد کیا پڑھا جائے؟
اس باب میں 2 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 744
حدثنا موسى بن إسماعيل، قال: حدثنا عبد الواحد بن زياد، قال: حدثنا عمارة بن القعقاع، قال: حدثنا ابو زرعة، قال: حدثنا ابو هريرة، قال:" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسكت بين التكبير وبين القراءة إسكاتة، قال: احسبه، قال: هنية، فقلت بابي وامي يا رسول الله إسكاتك بين التكبير والقراءة ما تقول، قال: اقول اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس، اللهم اغسل خطاياي بالماء والثلج والبرد".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمارہ بن قعقاع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قرآت کے درمیان تھوڑی دیر چپ رہتے تھے۔ ابوزرعہ نے کہا میں سمجھتا ہوں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یوں کہا یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ آپ اس تکبیر اور قرآت کے درمیان کی خاموشی کے بیچ میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں پڑھتا ہوں «اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب، اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، اللهم اغسل خطاياى بالماء والثلج والبرد» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر جتنی مشرق اور مغرب میں ہے۔ اے اللہ! مجھے گناہوں سے اس طرح پاک کر جیسے سفید کپڑا میل سے پاک ہوتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال۔
889 - 744
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
5🎋سنن ابي داود
أبواب تفريع استفتاح الصلاة
ابواب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل
138. باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
138. باب: جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز کے حکم کا بیان۔
اس باب میں 8 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 821
مکررات Tashkeel Show/Hide English Show/Hide
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، انه سمع ابا السائب مولى هشام بن زهرة، يقول: سمعت ابا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من صلى صلاة لم يقرا فيها بام القرآن، فهي خداج، فهي خداج، فهي خداج، غير تمام".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں“۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں!) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو: بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۲؎“۔
17355 - 821
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 2 (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 11 (838)، (تحفة الأشراف: 14935، 14045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز سے مراد سورہ فاتحہ ہے، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔
۲؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورۃ فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہئے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
● صحيح البخاري772عبد الرحمن بن صخرفي كل صلاة يقرأ فما أسمعنا رسول الله أسمعناكم وما أخفى عنا أخفينا عنكم وإن لم تزد على أم القرآن أجزأت وإن زدت فهو خير ● صحيح مسلم884عبد الرحمن بن صخرفي كل صلاة قراءة فما أسمعنا النبي أسمعناكم وما أخفى منا أخفيناه منكم ومن قرأ بأم الكتاب فقد أجزأت عنه ومن زاد فهو أفضل ● صحيح مسلم882عبد الرحمن بن صخرلا صلاة إلا بقراءة ● صحيح مسلم883عبد الرحمن بن صخرفي كل الصلاة يقرأ فما أسمعنا رسول الله أسمعناكم وما أخفى منا أخفينا منكم فقال له رجل إن لم أزد على أم القرآن فقال إن زدت عليها فهو خير وإن انتهيت إليها أجزأت عنك ● سنن أبي داود821عبد الرحمن بن صخرمن صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج غير تمام ● سنن أبي داود820عبد الرحمن بن صخرلا صلاة إلا بقراءة فاتحة الكتاب فما زاد ● سنن أبي داود819عبد الرحمن بن صخرلا صلاة إلا بقرآن ولو بفاتحة الكتاب فما زاد ● سنن أبي داود797عبد الرحمن بن صخرفي كل صلاة يقرأ فما أسمعنا رسول الله أسمعناكم وما أخفى علينا أخفينا عليكم ● سنن النسائى الصغرى971عبد الرحمن بن صخرفي كل صلاة قراءة فما أسمعنا رسول الله أسمعناكم وما أخفاها أخفينا منكم ● سنن النسائى الصغرى970عبد الرحمن بن صخركل صلاة يقرأ فيها فما أسمعنا رسول الله أسمعناكم وما أخفاها أخفينا منكم ● سنن ابن ماجه838عبد الرحمن بن صخرمن صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج غير تمام
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
6☆<☆صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
113. بَابُ جَهْرِ الْمَأْمُومِ بِالتَّأْمِينِ:
113. باب: مقتدی کا آمین بلند آواز سے کہنا۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر782
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سمي مولى ابي بكر، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" إذا قال: الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين سورة الفاتحة آية 7 فقولوا: آمين، فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه"، تابعه محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ونعيم المجمر، عن ابي هريرة رضي الله عنه.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح سمان سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم بھی «آمين» کہو کیونکہ جس نے فرشتوں کے ساتھ «آمين» کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ سمی کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن عمرو نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور نعیم مجمر نے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
934 - 782
● صحيح البخاري6402عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● صحيح البخاري4475عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين ● صحيح البخاري780عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح البخاري796عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح البخاري3228عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح البخاري782عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين ● صحيح البخاري781عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين قالت الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● صحيح مسلم915عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح مسلم913عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح مسلم917عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم في الصلاة آمين الملائكة في السماء آمين وافق إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح مسلم918عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر له ما تقدم من ذنبه ● صحيح مسلم934عبد الرحمن بن صخرالإمام جنة فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد إذا وافق قول أهل الأرض قول أهل السماء غفر له ما تقدم من ذنبه ● جامع الترمذي267عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● جامع الترمذي250عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن أبي داود935عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين ● سنن أبي داود936عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن أبي داود848عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن النسائى الصغرى930عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين ● سنن النسائى الصغرى928عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين ● سنن النسائى الصغرى929عبد الرحمن بن صخرإذا أمن الإمام فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن النسائى الصغرى927عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● سنن النسائى الصغرى926عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● سنن النسائى الصغرى931عبد الرحمن بن صخرإذا قال أحدكم آمين قالت الملائكة في السماء آمين وافقت إحداهما الأخرى غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● سنن النسائى الصغرى1064عبد الرحمن بن صخرسمع الله لمن حمده فقولوا ربنا ولك الحمد فإن من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن ابن ماجه852عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● سنن ابن ماجه851عبد الرحمن بن صخرإذا أمن القارئ فأمنوا إن الملائكة تؤمن من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر الله له ما تقدم من ذنبه ● موطا امام مالك رواية ابن القاسم118عبد الرحمن بن صخرإذا امن الإمام فامنوا، فإنه من وافق تامينه تامين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه ● موطا امام مالك رواية ابن القاسم119عبد الرحمن بن صخرإذا قال احدكم آمين وقالت الملائكة فى السماء آمين فوافقت إحداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه ● موطا امام مالك رواية ابن القاسم120عبد الرحمن بن صخرإذا قال الإمام: {غير المغضوب عليهم ولا الضالين}، فقولوا آمين ● موطا امام مالك رواية ابن القاسم123عبد الرحمن بن صخراللهم ربنا ولك الحمد فإنه من وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
-_☆_-☆_-☆_-☆-☆_-☆_-☆_-☆_-☆_-☆_-
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
85. بَابُ إِلَى أَيْنَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ:
85. باب: ہاتھوں کو کہاں تک اٹھانا چاہئے۔
اس باب میں 2 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
وقال ابو حميد في اصحابه: رفع النبي صلى الله عليه وسلم حذو منكبيه.
اور ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا۔
882 - Q738
حدیث کی تشریح تخریج الحدیث کے تحت پیش کی جا رہی ہے، یعنی پیش کیے جانے والے فوائد و مسائل کسی نہ کسی حوالے سے اوپر پیش کی جانے والی حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم فیچر ہے جس سے اس حدیث سے متعلق تمام انفارمیشن ایک جگہ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 738
حدثنا ابو اليمان، قال: اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: اخبرنا سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قال:" رايت النبي صلى الله عليه وسلم افتتح التكبير في الصلاة، فرفع يديه حين يكبر حتى يجعلهما حذو منكبيه، وإذا كبر للركوع فعل مثله، وإذا قال سمع الله لمن حمده فعل مثله وقال ربنا ولك الحمد، ولا يفعل ذلك حين يسجد ولا حين يرفع راسه من السجود".
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تکبیر تحریمہ سے شروع کرتے اور تکبیر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھا کر لے جاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی اسی طرح کرتے اور «ربنا ولك الحمد» کہتے۔ سجدہ کرتے وقت یا سجدے سے سر اٹھاتے وقت اس طرح رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
883 - 738
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
86. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ:
86. باب: (چار رکعت نماز میں) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 739
حدثنا عياش، قال: حدثنا عبد الاعلى، قال: حدثنا عبيد الله، عن نافع،" ان ابن عمر كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه، وإذا ركع رفع يديه، وإذا قال: سمع الله لمن حمده رفع يديه، وإذا قام من الركعتين رفع يديه"، ورفع ذلك ابن عمر إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم، رواه حماد بن سلمة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ورواه ابن طهمان، عن ايوب، وموسى بن عقبة مختصرا.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی (رفع یدین کرتے) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔)
884 - 739
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
115. بَابُ إِتْمَامِ التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ:
115. باب: رکوع کرنے کے وقت بھی تکبیر کہنا۔
اس باب میں 3 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
قاله ابن عباس: عن النبي صلى الله عليه وسلم فيه مالك بن الحويرث.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بھی اس باب میں روایت کی ہے۔
936 - Q784
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔
حدیث کی تشریح تخریج الحدیث کے تحت پیش کی جا رہی ہے، یعنی پیش کیے جانے والے فوائد و مسائل کسی نہ کسی حوالے سے اوپر پیش کی جانے والی حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم فیچر ہے جس سے اس حدیث سے متعلق تمام انفارمیشن ایک جگہ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیث نمبر 784
حدثنا إسحاق الواسطي، قال: حدثنا خالد، عن الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال: صلى مع علي رضي الله عنه بالبصرة، فقال: ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم،" فذكر انه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعید بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ سے، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ پھر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے۔
937 - 784
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
86. بَابُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ:
86. باب: (چار رکعت نماز میں) قعدہ اولٰی سے اٹھنے کے بعد رفع یدین کرنا۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدثنا عياش، قال: حدثنا عبد الاعلى، قال: حدثنا عبيد الله، عن نافع،" ان ابن عمر كان إذا دخل في الصلاة كبر ورفع يديه، وإذا ركع رفع يديه، وإذا قال: سمع الله لمن حمده رفع يديه، وإذا قام من الركعتين رفع يديه"، ورفع ذلك ابن عمر إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم، رواه حماد بن سلمة، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم، ورواه ابن طهمان، عن ايوب، وموسى بن عقبة مختصرا.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں داخل ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے اور ساتھ ہی رفع یدین کرتے۔ اسی طرح جب وہ رکوع کرتے تب اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تب بھی (رفع یدین کرتے) دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے اور جب قعدہ اولیٰ سے اٹھتے تب بھی رفع یدین کرتے۔ آپ نے اس فعل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا۔ (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔)
884 - 739
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
115. بَابُ إِتْمَامِ التَّكْبِيرِ فِي الرُّكُوعِ:
115. باب: رکوع کرنے کے وقت بھی تکبیر کہنا۔
اس باب میں 3 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
قاله ابن عباس: عن النبي صلى الله عليه وسلم فيه مالك بن الحويرث.
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اور مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بھی اس باب میں روایت کی ہے۔
936 - Q784
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔
حدیث کی تشریح تخریج الحدیث کے تحت پیش کی جا رہی ہے، یعنی پیش کیے جانے والے فوائد و مسائل کسی نہ کسی حوالے سے اوپر پیش کی جانے والی حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم فیچر ہے جس سے اس حدیث سے متعلق تمام انفارمیشن ایک جگہ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 784
مکررات Tashkeel Show/Hide English Show/Hide
حدثنا إسحاق الواسطي، قال: حدثنا خالد، عن الجريري، عن ابي العلاء، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال: صلى مع علي رضي الله عنه بالبصرة، فقال: ذكرنا هذا الرجل صلاة كنا نصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم،" فذكر انه كان يكبر كلما رفع وكلما وضع".
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے سعید بن ایاس جریری سے بیان کیا، انہوں نے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ سے، انہوں نے مطرف بن عبداللہ سے، انہوں نے عمران بن حصین سے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں ایک مرتبہ نماز پڑھی۔ پھر کہا کہ ہمیں انہوں نے وہ نماز یاد دلا دی جو کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ پھر کہا کہ علی رضی اللہ عنہ جب سر اٹھاتے اور جب سر جھکاتے اس وقت تکبیر کہتے۔
937 - 784
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
121. بَابُ حَدِّ إِتْمَامِ الرُّكُوعِ وَالاِعْتِدَالِ فِيهِ وَالاِطْمَأْنِينَةِ:
121. باب: رکوع پوری طرح کرنے کی اور اس پر اعتدال و طمانیت کی حد۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام
وقال ابو حميد في اصحابه: ركع النبي صلى الله عليه وسلم، ثم هصر ظهره.
ابوحمید رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر اپنی پیٹھ پوری طرح جھکا دی۔
946 - Q792
حدیث کی تشریح تخریج الحدیث کے تحت پیش کی جا رہی ہے، یعنی پیش کیے جانے والے فوائد و مسائل کسی نہ کسی حوالے سے اوپر پیش کی جانے والی حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم فیچر ہے جس سے اس حدیث سے متعلق تمام انفارمیشن ایک جگہ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 792
حدثنا بدل بن المحبر، قال: حدثنا شعبة، قال: اخبرني الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن البراء، قال:" كان ركوع النبي صلى الله عليه وسلم وسجوده وبين السجدتين، وإذا رفع راسه من الركوع ما خلا القيام والقعود قريبا من السواء".
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حکم نے ابن ابی لیلیٰ سے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکوع و سجود، دونوں سجدوں کے درمیان کا وقفہ اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو تقریباً سب برابر تھے۔ سوا قیام اور تشہد کے قعود کے۔
947 - 792
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
127. بَابُ الاِطْمَأْنِينَةِ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ:
127. باب: رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اطمینان سے سیدھا کھڑا ہونا۔
اس باب میں 4 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
قال ابو حميد: رفع النبي صلى الله عليه وسلم واستوى جالسا حتى يعود كل فقار مكانه.
اور ابوحمید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (رکوع سے) سر اٹھایا تو سیدھے اس طرح کھڑے ہو گئے کہ پیٹھ کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر آ گیا۔
955 - Q800
یہ حدیث مبارکہ اپنے دوست کو ای میل کیجئے۔
حدیث کی تشریح تخریج الحدیث کے تحت پیش کی جا رہی ہے، یعنی پیش کیے جانے والے فوائد و مسائل کسی نہ کسی حوالے سے اوپر پیش کی جانے والی حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ایک بہت اہم فیچر ہے جس سے اس حدیث سے متعلق تمام انفارمیشن ایک جگہ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 800
حدثنا ابو الوليد، قال: حدثنا شعبة، عن ثابت، قال:" كان انس ينعت لنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فكان يصلي وإذا رفع راسه من الركوع قام حتى نقول قد نسي".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ثابت بنانی سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ بتلاتے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم سوچنے لگتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں۔
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
130. بَابُ يُبْدِي ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِي فِي السُّجُودِ:
130. باب: سجدے میں دونوں بازو کھلے اور پیٹ رانوں سے الگ رکھے۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 807
حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثني بكر بن مضر، عن جعفر، عن ابن هرمز، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة،" ان النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض إبطيه"، وقال الليث: حدثني جعفر بن ربيعة نحوه.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز سے، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے بھی جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
964 - 807
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
133. بَابُ السُّجُودِ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ:
133. باب: سات ہڈیوں پر سجدے کرنا۔
اس باب میں 3 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدثنا قبيصة، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار عن طاوس، عن ابن عباس،" امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعضاء، ولا يكف شعرا ولا ثوبا الجبهة واليدين والركبتين والرجلين".
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا، اس طرح کہ نہ بالوں کو اپنے سمیٹتے نہ کپڑے کو (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی (مع ناک) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔
967 - 809
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
140. بَابُ الْمُكْثِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ:
140. باب: دونوں سجدوں کے بیچ میں ٹھہرنا۔
اس باب میں 4 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 820
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، قال: حدثنا ابو احمد محمد بن عبد الله الزبيري، قال: حدثنا مسعر، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء، قال:" كان سجود النبي صلى الله عليه وسلم وركوعه وقعوده بين السجدتين قريبا من السواء".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم صاعقہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواحمد محمد بن عبداللہ زبیری نے کہا کہ ہم سے مسعر بن کدام نے حکم عتیبہ کوفی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ، رکوع اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار تقریباً برابر ہوتی تھی۔
978 - 820
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
137. بَابُ لاَ يَكُفُّ شَعَرًا:
137. باب: اس بارے میں کہ نمازی (سجدے میں) بالوں کو نہ سمیٹے۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 815
حدثنا ابو النعمان، قال: حدثنا حماد وهو ابن زيد، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، قال:" امر النبي صلى الله عليه وسلم ان يسجد على سبعة اعظم ولا يكف ثوبه ولا شعره".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔
973 - 815
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
138. بَابُ لاَ يَكُفُّ ثَوْبَهُ فِي الصَّلاَةِ:
138. باب: اس بیان میں کہ نماز میں کپڑا نہ سمیٹنا چاہیے۔
اس باب میں 1 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 816
حدثنا موسى بن إسماعيل، قال: حدثنا ابو عوانة، عن عمرو، عن طاوس، عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" امرت ان اسجد على سبعة لا اكف شعرا ولا ثوبا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔
974 - 816
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
145. بَابُ سُنَّةِ الْجُلُوسِ فِي التَّشَهُّدِ:
145. باب: تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ۔
اس باب میں 3 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 828
حدثنا يحيى بن بكير، قال: حدثنا الليث، عن خالد، عن سعيد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، وحدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، ويزيد بن محمد، عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء،" انه كان جالسا مع نفر من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم، فقال ابو حميد الساعدي: انا كنت احفظكم لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم رايته إذا كبر جعل يديه حذاء منكبيه، وإذا ركع امكن يديه من ركبتيه ثم هصر ظهره، فإذا رفع راسه استوى حتى يعود كل فقار مكانه، فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما واستقبل باطراف اصابع رجليه القبلة، فإذا جلس في الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى، وإذا جلس في الركعة الآخرة قدم رجله اليسرى ونصب الاخرى وقعد على مقعدته"، وسمع الليث يزيد بن ابي حبيب، ويزيد من محمد بن حلحلة، وابن حلحلة من ابن عطاء، قال ابو صالح: عن الليث كل فقار، وقال ابن المبارك: عن يحيى بن ايوب، قال: حدثني يزيد بن ابي حبيب، ان محمد بن عمرو حدثه كل فقار.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے خالد سے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا (دوسری سند) اور کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، اور ان سے یزید بن ابی حبیب اور یزید بن محمد نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر ہونے لگا تو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ یاد ہے میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک لے جاتے، جب آپ رکوع کرتے تو گھٹنوں کو اپنے ہاتھوں سے پوری طرح پکڑ لیتے اور پیٹھ کو جھکا دیتے۔ پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس طرح سیدھے کھڑے ہو جاتے کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جاتے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ اپنے ہاتھوں کو (زمین پر) اس طرح رکھتے کہ نہ بالکل پھیلے ہوئے ہوتے اور نہ سمٹے ہوئے۔ پاؤں کی انگلیوں کے منہ قبلہ کی طرف رکھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور جب آخری رکعت میں بیٹھتے بائیں پاؤں کو آگے کر لیتے اور دائیں کو کھڑا کر دیتے پھر مقعد پر بیٹھتے۔ لیث نے یزید بن ابی حبیب سے اور یزید بن محمد بن حلحلہ سے سنا اور محمد بن حلحلہ نے ابن عطاء سے، اور ابوصالح نے لیث سے «كل فقار مكانه» نقل کیا ہے اور ابن مبارک نے یحییٰ بن ایوب سے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ان سے حدیث میں «كل فقار» بیان کیا۔
989 - 828
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح مسلم
كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام
21. باب صِفَةِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلاَةِ وَكَيْفِيَّةِ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الْفَخِذَيْنِ:
21. باب: نماز میں بیٹھنے اور دونوں رانوں پر دونوں ہاتھ رکھنے کی کیفیت۔
اس باب میں 6 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر1309
وحدثني محمد بن رافع ، وعبد بن حميد ، قال عبد: اخبرنا، وقال ابن رافع: حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن عبيد الله بن عمر ، عن نافع ، عن ابن عمر ، ان النبي صلى الله عليه وسلم، " كان إذا جلس في الصلاة، وضع يديه على ركبتيه، ورفع إصبعه اليمنى، التي تلي الإبهام، فدعا بها، ويده اليسرى على ركبته اليسرى، باسطها عليها ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور داہنے ہاتھ کے کلمہ کی انگلی کو اٹھاتے اس سے دعا کرتے اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر بچھا دیتے۔
10280 - 1309
🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋🎋
صحيح البخاري
أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ
کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة»)
149. بَابُ الدُّعَاءِ قَبْلَ السَّلاَمِ:
149. باب: (تشہد کے بعد) سلام پھیرنے سے پہلے کی دعائیں۔
اس باب میں 3 احادیث آئی ہیں، باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں۔
حدیث نمبر: 832
حدثنا ابو اليمان، قال: اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال: اخبرنا عروة بن الزبير، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته،" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة اللهم إني اعوذ بك من عذاب القبر، واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، واعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات، اللهم إني اعوذ بك من الماثم والمغرم، فقال له قائل: ما اكثر ما تستعيذ من المغرم، فقال: إن الرجل إذا غرم حدث فكذب ووعد فاخلف".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال، وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات، اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» اے اللہ قبر کے عذاب سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ زندگی کے اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں گناہوں سے اور قرض سے۔ کسی (یعنی ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو قرض سے بہت ہی زیادہ پناہ مانگتے ہیں! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مقروض ہو جائے تو وہ جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ خلاف ہو جاتا ہے۔
993 - 832
No comments:
Post a Comment