Saturday, 30 May 2020

مرد و عورت میں سے اگر کوئی ایک فوت ہو جائے تو کیا دوسرا اس کو غسل دے سکتا۔۔۔ ‏

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

1464صحیححَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ»

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

ترجمہ : عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ خیال آجاتا جو بعدمیں آیا تو نبی ﷺ کو ازواج مطہرات ہی غسل دیتیں۔

تشریح : خاوند اور بیوی کا باہمی تعلق ایسا ہے۔جو کسی اور کا نہیں۔او ر ان کا ایک دوسرے سے جسم کے کسی حصہ کا پردہ بھی نہیں۔اس لئے سب سے زیادہ انہی کا حق ہے۔کہ ایک دوسرے کوغسل دیں۔اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے۔جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد خاوند بیوی ایک دوسرے کا نہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ ہی ان کوغسل دیں چنانچہ انہوں نے غسل دیا:
عن ام جعفر ان فاطمة بنت رسول اللہ قالت: یا اسماء اذا انا مت فاغسلینی انت وعلی بن ابی طالب فغسلہا علی واسماءرضی اللہ عنہما
(بیہقی کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 6452)
”ام جعفر بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء(جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) سے کہا کہ جب میں مرجاﺅں تو تم اور علی مجھے غسل دینا چنانچہ علی اور اسماءنے انہیں غسل دیا۔ “
سنن بیہقی 6453کی روایت میں ہے کہ ام جعفر بنت محمد بن علی کہتی ہیں کہ مجھ سے اسماءبنت عمیس نے کہا کہ میں نے اور علی بن ابی طالب نے فاطمہ بنت رسول اللہ کو غسل دیا

كِتَابُ الْجَنَائِزِ

بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا

1465حسنحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ» ثُمَّ قَالَ: «مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ»

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا

ترجمہ : عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بقیع سے آئے تو دیکھا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور میں کہہ رہی ہوں: ہائے میرا سر! نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ عائشہ !میں( کہتا ہوں): ہائے میرا سر! ‘‘ پھر فرمایا: ’’تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری وفا مجھ سے پہلے ہوگئی؟ ( اس صورت میں) میں خود تمہارے لیے( کفن دفن کا) اہتمام کروں گا ، تمہیں خود غسل دوں گا ، خوف کفن پہناؤں گا، خود تمہارا جنازہ پڑھوں گا اور خود دفن کروں گا۔‘‘

تشریح : 1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سند ضعیف قراردیا ہے اور مذید لکھا ہے کہ مذکورہ حدیث کے بعض حصے کے شواہد صحیح بخاری میں ہیں۔جبکہ دیگر محققین نے مذکورہ روایت کوحسن قراردیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد 43/8182 والا رواء حدیث 700)لہذا مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔2۔یہ واقعہ 29 صفر 11ھ بروز پیر کا ہے دیکھئے۔(الرحیق المختوم ص 624)یہ اس مرض کی ابتداء تھی۔جس میں رسول اللہ ﷺکی وفات ہوئی۔3۔جسمانی تکلیف کا اظہار توکل اور رضا بالقضا کے منافی نہیں۔4۔خاوند اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔اور کفن پہنا سکتا ہے۔بعض علماء نے اس حکم کو رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔لیکن تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔بلکہ صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین کے عمل سے اس کی عمومیت ثابت ہے۔جیسا کہ موطا اوربیہقی کی روایات میں ہے۔(ان اسماء بنت عمیس غسلت ابا بکر حین توفی) ابو بکر کی وفات پر اسماء بنت عمیس نے انھیں غسل دیا (موطا امام مالک الجنائز باب غسل المیت والسنن الکبریٰ للبہقی 3/397)ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق وارد ہے کہ انھوں نے اپنی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت رسولﷺ کو انکی وفات پر غسل دیا تھا۔دیکھئے۔(سنن دارقطنی الجنائز باب الصلاۃ علی القبر والسنن الکبریٰ للبہیقی ۔3/396) اس لئے باقی اُمت کے لئے بھی یہی حکم ہے۔اور اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

زوجین میں سے کوئی ایک پہلے وفات پا جائے تو دوسرا اسے غسل دے سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:

"رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا في رأسي وأنا أقول وارأساه فقال بل أنا يا عائشة وارأساه ثم قال: ما ضرك لو مت قبلي فكفنتك ثم صليت عليك ودفنتك"

(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی غسل الرجل امراتہ و غسل المراۃ زوجھا: 1465 سنن الدارقطنی، کتاب الجنائز: 1809-1811، السنن الکبری للبیہقی، کتاب الجنائز، باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت: 6/396۔ سنن الدارمی: 1/39۔ مسند ابی یعلی: 8/56)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک آدمی کے جنازے سے) بقیع سے واپس لوٹے۔ آپ نے مجھے اس حالت میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا اور میں ہائے ہائے کر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں بھی درد ہو رہا ہے۔ پھر فرمایا: تجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گئی تو میں تجھے غسل دوں گا اور کفن پہناؤں گا اور تیرا جنازہ پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا۔"

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

"لو كنت استقبلت من أمري ما استدبرت ما غسل النبي صلى الله عليه وسلم غير نسائه"

(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی غسل امراتہ و غسل المراۃ زوجھا: 1464، مسند ابی یعلی: 7/468۔ مسند احمد: 6/267۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز: باب فی ستر المیت عند غسلہ: 3141۔ السنن الکبری للبیہقی: 3/398 مستدرک حاکم: 3/50۔ موارد الظمآن: 2157، شرح السنۃ: 5/308، مسند شافعی: 1/211)

"اگر مجھے پہلے یہ بات یاد آ جاتی جو مجھے بعد میں یاد آئی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔"

قاضی شوکانی رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:

"فيه دليل على أن المرأة يغسلها زوجها إذا ماتت وهي تغسله قياساً" (نیل الاوطار: 4/31)

اس حدیث میں دلیل ہے کہ عورت جب مر جائے تو اس کو اس کا خاوند غسل دے سکتا ہے اور اس دلیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت بھی خاوند کو غسل دے سکتی ہے۔ کیونکہ شوہر اور بیوی کا ایک پردہ ہے جس طرح مرد عورت کو دیکھ سکتا ہے اسی طرح عورت بھی مرد کو دیکھ سکتی ہے۔

علامہ محمد بن اسماعیل صاحب سبل السلام رحمۃ اللہ علیہ راقم ہیں:

"فيه دلالة على أن للرجل أن يغسل زوجته وهو قول الجمهور"(سبل السلام: 2/741'742)

اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اور یہی قول جمہور ائمہ محدثین رحمہم اللہ اجمعین کا ہے۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا تھا۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں کہ:

"أن أسماء بنت عميس غسلت أبا بكر الصديق حين توفى"

(المؤطا للامام مالک، کتاب الجنائز: 133، مع ضوء السالک، المصنف لعبدالرزاق: 3/410 الاوسط لابن المنذر: 5/335، شرح السنۃ: 5/308

جس وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے انہیں غسل دیا۔ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:

"أن أسماء بنت عميس غسلت أبا بكر الصديق حين توفى"

(دارقطنی، باب الصلاۃ علی القبر: 1833، السنن الکبری للبیہقی: 3/396 المصنف لعبد الرزاق: 3/410، شرح السنۃ: 5/309، مسند شافعی: 1/211، حلیۃ الاولیاء: 2/43 فی ترجمۃ فاطمۃ رضی اللہ عنہا و اسنادہ حسن)

"بلاشبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ انہیں ان کا خاوند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا غسل دیں تو ان دونوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا۔"

علامہ احمد حسن محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"يدل على أن المراة يغسلها زوجها وهى تفسله بإجماع الصحابة لأنه لم ينقل من سائر الصحابة إنكار على أسماء و على فكان إجماعا" (حاشیه بلوغ المرام: 105)

"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کو اس کا شوہر غسل دے سکتا ہے اور وہ اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔ اس لئے کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر کسی بھی صحابی کا انکار منقول نہیں تو یہ مسئلہ اجماعی ہوا۔"

عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینا تو سب اہل علم کے ہاں متفق علیہ ہے۔

(الاوسط لابن المنذر 334/5)

البتہ مرد کا اپنی بیوی کو غسل دینا مختلف فیہ ہے۔ جمہور ائمہ محدثین رحمھم اللہ اجمعین کے ہاں جائز و درست ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ امام ابوبکر محمد بن ابراہیم المعروف بابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ نے علقمہ، جابر بن زید، عبدالرحمٰن بن الاسود، سلیمان بن یسار، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن، قتادہ، حماد بن ابی سلیمان، مالک اوزاعی، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ جیسے کبار ائمہ و محدثین رحمھم اللہ اجمعین سے یہی بات نقل کی ہے۔ (الاوسط: 5/335'336)

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب




No comments:

Post a Comment