Wednesday, 3 June 2020
Tuesday, 2 June 2020
bait e rizwan walay
❤ Qisase-Qatal Usman (R.A) ki bait ke liye Imam-ul-Anbia (S.A.W) ne apna haath Usman ka haath kaha jis per Rab-ul-Alameen ka haath tha❤
جب بیعت رضوان ہو رہی تھی تو عثمان رضی اللہ عنہ مکہ جا چکے تھے، اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔
Sunday, 31 May 2020
azrat ammar bin yasir ki shahadat
حضرت عمار ؓ بن یاسر کی شہادت ،
حضرت معاویہ ؓ اور باغی گروہ کون۔۔۔؟
کیا حضرت معاویہ اس باغی گروہ میں شامل تهے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار بن یاسر(رض) کو فرمایا تها کہ تجهے باغی گروہ قتل کرے گا؟؟
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے متعلق احادیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: تقتلک الفئتہ الباغیہ. یعنی تجهے باغی گروہ قتل کرے گا؛ اور بعض روایات میں یہ الفاظ بهی ہیں کہ عمار انہیں جنت کی طرف بلاتا ہوگا اور وہ اسے آگ کی طرف بلاتے ہوں گے. اس سے یہ غلط استدلال کیا گیا کہ چونکہ جنگ صفین میں حضرت عمار(رض) حضرت علی کرم اللہ وجه کی فوج میں تهے اور مشہور تاریخی روایات کے مطابق وہ اس جنگ میں شهید ہوگئے تهے اس لئے حضرت معاویہ(رض) اور ان کے سب ساتهی الفئتہ الباغیہ(باغی گروہ) میں شامل ہیں بلکہ بعض نے مبالغہ کرتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ جهنم کی طرف دعوت دینے والے گروہ میں شامل ہونے کی وجہ سے حضرت معاویہ اور ان کے ساتهی(معاذاللہ) مرتد اور کافر ہیں.
حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ اس طرح کی احادیث کا مصداق کسی بهی جانب کے صحابہ کرام نہیں ہیں بلکہ وہ فتنہ جو اور شریر لوگ اس کا مصداق ہیں جو دونوں طرف شامل تهے. مثلا تاریخی روایات کے مطابق شمر ذی الجوشن وہ اخبث الخبائث شخص ہے جو سانحہ کربلا کا سب سے بڑا شیطانی کردار ہے یہی شمر جنگ صفین میں حضرت علی کے لشکر میں شامل تها یا مثلا عمرو بن جرموز جنگ جمل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فوج میں تها اس نے حضرت زبیر (رض) کو شهید کیا اور آپ کے سر مبارک کو لیکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بغرض انعام پہنچا اور ملاقات کا خواستگار ہوا. حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابن صفیہ(حضرت زبیر) کے قاتل کو جهنم کی بشارت سنادو اور اسے اپنے پاس آنے نہیں دیا. تو جسطرح شمر ذی الجوشن اورعمربن جرموز جیسے خبیث الفطرت لوگوں کی وجہ سے حضرت علی اور آپ کے مخلص ساتهیوں پر ہرگز کوئی حرف نہیں آتا بعینہہ اسی طرح حضرت معاویہ(رض) کی فوج میں شامل اسی قماش کے لوگوں کی وجہ سے آپ پر اور آپ کے مخلص ساتهیوں پر بهی کوئی حرف نہیں آتا.
حضرت عمار بن یاسر(رض) کے قتل کے متعلق تاریخی کتب امام ابن کثیرؒ کی البدایہ والنہایہ میں مرقوم ہے کہ آپ کے دو قاتل ابن جوی سکسکی اور ابو الغاویہ فراری حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کے پاس پہنچے، یہ دونوں باهم جهگڑ رہے تهے کہ حضرت عمار سے چهینے گئے لباس اور ہتهیاروں پر ان کا حق ہے. تو حضرت حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے انہیں فرمایا کہ تم دونوں آگ کے بارے میں جهگڑ رہے ہو یعنی تم دونوں قتل عمار کی وجہ سے جهنمی ہو. حضرت معاویہ(رض) نے فرمایا تها کہ ہم نے حضرت عمار کو شهید نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے کیا ہے جو انہیں میدان جنگ میں کهینچ لائے ہیں. آپ کا اشارہ فتنہ جو لوگوں مثلا قاتلین عثمان اور ان کے کهلے ہمنواوں کی جانب تها جن کی وجہ سے ان جنگوں تک نوبت آ پہنچی تهی. آپ کا اشارہ ہرگز حضرت علی اور ان کے مخلص ساتهیوں کی طرف نہیں تها. کسی بهی جماعت میں شامل خبیث لوگوں کی وجہ سے پوری جماعت یا گروہ کو ہرگز مطعون نہیں کیا جاسکتا. حضرت عمروبن العاص نے بهی حضرت عماربن یاسر کے قاتل کو جهنم کی بشارت دی تهی. صحابہ کرام کا مرحوم و مغفور ہونا قرآن کریم کی قطعی الدلالتہ اور محکم آیات سے ثابت ہے اور جو روایات خلاف قرآن ہیں وہ قابل قبول نہیں ہوسکتیں.
جہاں تک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے مخلص ساتهیوں خصوصا صحابہ کرام کے(معاذاللہ) مرتد، منافق یا کافر ہونے کا دعوی ہے تو درج ذیل وجوه کی بنا پر باطل ہے.
1۔ اگر حضرت معاویہ اور آپ کے مخلص ساتهی ٹهیک اس باغی جماعت میں شامل ہوتے جو لوگوں کو جهنم کی دعوت دے رہی تهی اور حضرت عماربن یاسر کی شهادت سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہوتا تو یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پورے علاقے میں پهیل جاتی. حضرت علی رضی اللہ عنہ ہرگز ہرگز جنگ بند نہ کرتے اور حکمین کے تقرر پر راضی نہ ہوتے خواہ ان پر کتنا ہی دباو کیوں نہ ہوتا.
2۔ بہت سے صحابہ کرام ایسے بهی تهے جنہوں نے ان جنگوں میں حصہ نہیں لیا تها اور کئی ایک نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ہی نہیں کی تهی تو یہ حضرات باغی گروہ کا صاف صاف پتہ چل جانے پر ہرگز غیرجانبدار نہ رہتے بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کهلم کهلا ساتهہ دیتے۔
3۔حضرت ابو موسی اشعری(رض) جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکم تهے یقینا وہ حضرت عمار(رض) کی شهادت کے حوالہ سے حضرت معاویہ (رض) کے حکم حضرت عمروبن العاص پر الزام عائد کرتے اور ہرگز اس امر پر تیار نہ ہوتے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ کو معزول کردیا جائے.
4۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت کے آخری دنوں میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہرگز صلح نہ کرتے.
5۔قرآن کریم میں سورہ مائدہ کی آیت قتال مرتدین کی رو سے حضرت علی یقینا حضرت معاویہ پر ایسے ہی غالب آتے جیسے آپ حقیقی باغیوں خورارج پر غالب آئے تهے. یہ خوارج بےمثال شجاعت کے باوجود شرمناک ہزیمت سے دوچار ہوئے تهے. اس آیت میں مرتد ہونیوالوں کو یہ وعید سنائی گئی ہے کہ ان کے مقابلے میں اللہ کے مقرب بندوں کی جماعت ان پر غالب آئیگی. یہاں دونوں فریق حق پر تهے. حق کا حق سے کوئی مقابلہ نہیں ہوا کرتا کہ ایک فریق کو غالب اور دوسرے کو مغلوب قرار دیا جائے.
6۔حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ ہرگز ہرگز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرکے امت مسلمہ کی قیادت اور منصب خلافت ان کے سپرد نہ کرتے. اس صلح کو ہرگز صلح حدیبیہ سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی. حدیبیہ کی صلح میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرگز اسلامی ریاست کی سربراہی قریش مکہ کے سپرد نہیں کردی تهی.
7۔اس صورت میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں جو جنگی مہمات ہوئیں انہیں ہرگز جهاد نہیں کہا جاسکتا. صحابہ کرام ان جنگوں میں مثلا جنگ قسطنطینہ میں ہرگز ہرگز شریک نہ ہوتے یاد رہے کہ اس جنگ میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ میزبان رسول بهی شریک ہوئے تهے اور انہی دنوں وہیں ان کا انتقال ہوا اور بموجب وصیت وہیں مدفون ہوئے نیز مورخین نے اس جنگ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے شریک ہونے کو بهی تسلیم کیا ہے.
8۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس صورت میں قرآن کریم کی ان تمام آیات کے مضمون کو (معاذاللہ) جهوٹا قرار دینا ہوگا جن میں فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والے مهاجرین و انصار اور فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کرنے والے مولفتہ القلوب کے مغفور و مرحوم ہونیکی ایسی محکم خبریں دی ہیں جن میں کسی طرح کے ابہام،اشتباہ کا گزر تک نہیں یعنی یہ قرآنی نصوص قطعی الدلاتہ ہیں.
9۔ جب اہل شام یعنی حضرت معاویہ اور ان کے ساتهیوں کو اپنے ایک گشتی مراسلے میں خود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مومن قرار دیا ہے تو دوسروں کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف رائےزنی کا حق ہی کب حاصل ہے؟ جنگ صفین کے بعد آپ نے اپنے علاقے کے شهروں میں جو مراسلہ ارسال فرمایا تها اس کا مضمون “نهج البلاغہ” کے مطابق یوں ہے کہ ہمارا اور اہل شام کا مقابلہ ہوا حالانکہ ظاہر ہے کہ ہمارا خدا ایک ہے نبی ایک ہے اور دعوت فی الاسلام ایک ہے، اللہ تعالی پر ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے متعلق نہ ہم ان سے کسی زائد چیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ ہم سے کوئی مزید مطالبہ کرتے ہیں سوائے اس کے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے خون کے معاملے میں ہمارا اختلاف ہے اور ہم اس ( خون ناحق ) سے بری ہیں.
10۔سورہ حجرات میں ہے کہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں جنگ ہوجائے تو ان میں صلح کرادیا کرو کیونکہ مومن باہم بهائی بهائی ہوتے ہیں. اس سے ثابت ہوا کہ باہم جنگ کی وجہ سے مسلمان دائرہ اسلام سے ہی خارج نہیں ہوجاتے. نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نواسے سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے متعلق فرمایا تها کہ میرا یہ بیٹا سید ہے ممکن ہے اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان صلح کرادے. اس حدیث کا مضمون قرآنی مدلول کے تقاضوں سے عین ہم آہنگ ہے لہذا قبول کیا جائیگا.
11۔صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کے مطابق خوارج سے جنگ کرنیوالی جماعت اولی الطائفتین بالحق ( حق سے زیادہ قریب) ہوگی. اس سے بہت سے حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا موقف اولی اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا خلاف اولی تها. یعنی دونوں فریق حق پر تهے. لیکن اس پر سب سے بڑا اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ وہ دسیوں ہزار صحابہؓ کرام جو ان مشاجرات سے الگ تهلگ رہے تهے وہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے موقف کو یقینا اولی سمجهتے تو نہ صرف قولا بلکہ عملا بهی ان کا ساتهہ دیتے. دوسرا اشکال یہ وارد ہوتا ہے کہ جس جماعت کا موقف خلاف اولی ہو یعنی اختلاف صواب اور خطا کا نہ ہو بلکہ صرف اولی اور خلاف اولی کا ہو تو ایسی جماعت یا گروہ کو طائفہ باغیہ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ اس لئے حدیث کا صاف اور بےغبار مطلب یہ ظاہر ہورہا ہے کہ جہاں اور بہت سی باتوں میں سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر سبقت حاصل ہے تو خوارج کے فتنے کو سمجهنے اور حضرت عبداللہ بن عباس کے ذریعے دلائل کی بناء پر ان پر حجت پوری کرنے اور پهر جنگ و جدال اور فتنہ و فساد سے باز نہ آنے پر ان کے خلاف مسلح جہاد کرنے اور ان کی جمعیت اور قوت کو منتشر کرنے میں اور فتنے کو بڑی حد تک کچل دینے میں سیدنا حضرت علی رض حضرت معاویہ رض پر سبقت لے گئے. خوارج دینی گمراہی میں مبتلا تهے اور کهلے عام امت مسلمہ سے کٹ کر الگ ہونے والے پہلے لوگ تهے جن کے خلاف حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بالآخر لشکر کشی فرمائی.
حدیث زیرنظر کے کلمات اولی الطائفتین بالحق ( دونوں جماعتوں میں سے حق کے زیادہ قریب ) کا دوسرا متفق علیہ مطلب یہ ہے کہ نفس خلافت کے اعتبار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ احق بالخلافہ ہیں چنانچہ بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ خلفائے اربعہ کی خلافت ہی اہل حق کے اجماعی عقیدے کے مطابق خلافت راشدہ خاصہ اور اس کے مقابلے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور بعد والے نیک خلفاء کی خلافت ، خلافت راشدہ عامہ یا خلافت عادلہ ہے.
خلافت کے صحیح ہونیکو تسلیم نہ کرنے اور بیعت خلافت نہ کرنے میں فرق کو ملحوظ رکهنا چاہئیے. اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے برحق ہونیکا ایک لمحے کے لئے بهی انکار ہوتا تو وہ شروع ہی سے اپنی الگ خلافت کا یقینا دعوی اور اعلان کرتے. حالانکہ سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے صلح سے پہلے انہوں نے کبهی بهی اپنی خلافت کا دعوی نہیں کیا. چنانچہ حضرت معاویہ رض کی امارت و حکومت صلح سے پہلے متفق علیہ نہیں تهی لیکن اس کے برعکس حضرت علی کی خلافت راشدہ تو ہمیشہ سے متفق علیہ رہی ہے. اس سے سوائے خوارج کے کسی ایک متنفس نے بهی انکار نہیں کیا. البتہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون ناحق کے قصاص کے معاملے میں اختلاف کی وجہ سے حضرت علی رض کی بیعت پر سب کا اتفاق نہ ہوسکا. جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگی بشارت کی بنا پر آپ کے محبوب نواسے سیدنا حضرت حسن رض کی مصالحت اور بهرپور تعاون سے حضرت معاویہ رض کی خلافت کی بیعت پر سب کا اتفاق ہوگیا.
جہاں تک دم عثمان رض کے متعلق حضرت علی رض اور حضرت معاویہ رض میں اختلاف رائے کا تعلق ہے تو حضرت علی رض کو احق بالخلافہ سمجهنے اور انہیں مقام و مرتبہ کے لحاظ سے کہیں زیادہ افضل و برتر ماننے کے باوجود صحابہ کرام رض کی عظیم اکثریت یہ فیصلہ نہ کرسکی کہ کس کا موقف اولی اور کس کا خلاف اولی ہے. بلکہ وہ دونوں حضرات کو اپنے اپنے مقام پر حق بجانب سمجهتے ہوئے ان کی جنگوں میں شریک نہ ہوئے بلکہ الگ تهلگ رہے. یعنی انہوں نے سکوت اور توقف کو اختیار کیا. غور کیجئیے اللہ تعالی کی حکمت بالغہ کا تقاضا بهی یہی تها کہ وہ ان جنگوں سے الگ تهلگ رہیں کیونکہ وہ قرآن کریم کی نصوص صریحہ کے مطابق باہم بهائی بهائی اور آپس میں ایک دوسرے پر مہربان تهے.
اللہ تعالی نے سورہ آل عمران میں صحابہ کرام پر اپنا احسان جتاتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” تم اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو جبکہ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تهے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے باہم بهائی بهائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑهے کے کنارے پر کهڑے تهے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا” ( آل عمران 103 ) اس آیت کریمہ کے مخاطب صحابہ کرام کو اللہ تعالی نے جہنم کی آگ سے بچ جانیکی بشارت بهی سنا دی. اس لئے بعد میں باہم تفرقہ بازی پر جو وعید سنائی گئی ہے وہ بعد کے لوگوں کے لئے ہے. آیت کے مخاطب اصحاب رسول سے اس کا تعلق نہیں.
فتح مکہ کے ایام میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو یہ بشارت سنادی کہ ” بہت ممکن ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے محبت پیدا کردے اور اللہ قادر ہے اور بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے”( الممتحنہ 27)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر کوئی شخص دوسرے پر ایسا احسان جتائے جسے وہ بعد میں واپس لینے کا پہلے ہی سے ارادہ رکهتا ہو تو ہرگز اسے شریف انسان قرار نہیں دیا جاسکتا. اللہ تعالی تو عالم الغیب والشهاده ہے ، کسی فرد یا جماعت کو متعین کرکے وہ ایسا احسان جتائے گا ہی کیوں جسے بعد میں اس نے واپس لے لینا ہو. پس جس کا بهی قرآن کریم پر سچا ایمان ہے اس کا یہ بهی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو باہم الفت و محبت اور مواخات کی جو نعمت عطا فرمائی تهی اور اس کا اس نے احسان جتایا تها وہ نہ تو اس نے ہرگز ہرگز واپس لینی تهی اور نہ ہی واپس لی ، ورنہ احسان جتانا ہی بیکار ہوتا اور اللہ ہر عیب سے پاک ہے.
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم اکثریت فتنوں کے زمانے میں باہم لڑائی سے الگ تهلگ رہی. اور جس نہایت ہی قلیل تعداد نے حصہ بهی لیا تو ان کی باہم محبت کا حال بهی سن لیجئیے. فتنے کے ان ایام میں قیصر روم نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے مسلمانوں پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں اور حضرت معاویہ رض کو ہمدردی کا پیغام بهیجتے ہوئے بهرپور تعاون کی پیشکش کی .اس پر حضرت معاویہ رض نے سخت مشتعل ہوکر قیصرروم کو لکها ” اللہ کی قسم اگر تو اس اقدام سے باز نہ آیا اور اپنے علاقوں کی طرف واپس نہ لوٹا تو اے ملعون تو میں اور میرے چچا کے بیٹے( حضرت علی رض) تیرے خلاف باہم صلح کرلیں گے اور میں تجهے تیری آبادیوں سے نکال دوں گا اور زمین کے فراخ ہونیکے باوجود اسے تجهہ پر تنگ کردوں گا ” اس پر وہ خوف زدہ ہوگیا اور اپنے اقدام سے رک گیا اور قاصد بهیج کر صلح کا خواستگار ہوا.( البدایہ والنهایہ8/119 تحت ترجمہ معاویہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ صفین کے مقتولین سے متعق فرمایا قتلانا و قتلاهم فی الجنتہ. یعنی ہمارے اور ان کے مقتول جنت میں جائیں گے.( مجمع الزواید للهیثمی9/357 سیر اعلام النبلاء للذهبی 3/95 تحت تذکرہ معاویہ بن ابی سفیان)۔
نعیم بن ابی هند نے اپنے چچا سے حضرت علی رض کا قول نقل کیا ہے کہ ہمارے اور فریق مخالف کے مقتولین میں سے جو بهی اللہ کی رضا اور آخرت کا طالب تها وہ جنت میں داخل ہوگا.( السنن سعید بن منصور 3/374 روایت رقم 2968 طبع مجلس علمی کراچی) .
ان روایات سے یہ بهی ثابت ہوا کہ حضرت علی رض ہرگز حضرت معاویہ رض کو اس باغی ٹولے میں شمار نہیں کرتے تهے جو لوگوں کو جہنم کی آگ کی طرف دعوت دے رہا تها. یہ تو سبائیوں اور خوارج کا ٹولہ تها. ابوامامہ الباهلی سے روایت ہے کہ میں صفینق میں موجود تها تو وہ لوگ کسی زخمی کو مزید زخمی نہیں کرتے تهے اور پیٹهہ پهیر جانے والے کا پیچها نہیں کرتے تهے.اور کسی بهی مقتول کا لباس اور ہتهیار سلب نہیں کرتے تهے.( المصنف لابن ابی شیبہ12/424 طبقات ابن سعد 7/132)
جب حضرت معاویہ رض کو حضرت علی رض کی شہادت کی خبر ملی تو آپ آبدیدہ ہوگئے. آپ کی اہلیہ نے کہا کہ آپ تو حضرت علی رض کے خلاف لڑتے رہے ہیں اب آپ کیوں روتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا تجهہ پر افسوس تجهے کیا پتہ کہ لوگ علم اور فقہ سے کس قدر محروم ہوگئے ہیں.(البدایہ والنهایہ8/130)
ضرار الصدائی حضرت علی رض کے قریبی ساتهیوں میں سے تهے. شہادت علی رض کے بعد ایک مرتبہ حضرت معاویہ رض کے پاس آئے . حضرت معاویہ رض کے بار بار شدید اصرار پر ضرار نے حضرت علی رض کے اوصاف بیان کرنا شروع کیے تو حضرت معاویہ رض سن کر رونے لگے اور اتنا روئے کہ ان کی داڑهی تربتر ہوگئی.( درہ نجفیہ شرح نہج البلاغہ صفحہ 360 طبع قدیم ایران ،شرح نہج البلاغہ حدیدی معتزلی شیعی طبع بیروت4/374 شرح نہج البلاغہ ابن میثم البحرانی الشیعی5/476 طبع تہران الاستیعاب لابن عبدالبر3/43 تحت علی بن ابی طالب رض)
اس طرح کی روایات کا انبار لگایا جاسکتا ہے جو کہ قرآنی مدلول کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں لہذا قابل قبول ہیں. ان کی اسناد کی چهان بین کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اگر یہ روایات بالفرض نہ بهی ہوتیں تو بهی متعلقہ مذکورہ قرآنی مضامین کو کیسے جهٹلایا جاسکتا ہے؟ اگر کتاب اللہ کے مدلول کے تقاضوں کے خلاف لاکهوں روایات بهی ہوں تو وہ دریابرد کئے جانے کے لائق ہیں.
تحریر پروفیسر ظفر احمد
Saturday, 30 May 2020
مرد و عورت میں سے اگر کوئی ایک فوت ہو جائے تو کیا دوسرا اس کو غسل دے سکتا۔۔۔
كِتَابُ الْجَنَائِزِ
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
1464صحیححَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ»
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب : خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا
ترجمہ : عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ خیال آجاتا جو بعدمیں آیا تو نبی ﷺ کو ازواج مطہرات ہی غسل دیتیں۔
تشریح : خاوند اور بیوی کا باہمی تعلق ایسا ہے۔جو کسی اور کا نہیں۔او ر ان کا ایک دوسرے سے جسم کے کسی حصہ کا پردہ بھی نہیں۔اس لئے سب سے زیادہ انہی کا حق ہے۔کہ ایک دوسرے کوغسل دیں۔اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے۔جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد خاوند بیوی ایک دوسرے کا نہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے شوہر علی رضی اللہ عنہ ہی ان کوغسل دیں چنانچہ انہوں نے غسل دیا:
عن ام جعفر ان فاطمة بنت رسول اللہ قالت: یا اسماء اذا انا مت فاغسلینی انت وعلی بن ابی طالب فغسلہا علی واسماءرضی اللہ عنہما
(بیہقی کتاب الجنائز باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت رقم 6452)
”ام جعفر بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء(جوکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں) سے کہا کہ جب میں مرجاﺅں تو تم اور علی مجھے غسل دینا چنانچہ علی اور اسماءنے انہیں غسل دیا۔ “
سنن بیہقی 6453کی روایت میں ہے کہ ام جعفر بنت محمد بن علی کہتی ہیں کہ مجھ سے اسماءبنت عمیس نے کہا کہ میں نے اور علی بن ابی طالب نے فاطمہ بنت رسول اللہ کو غسل دیا
كِتَابُ الْجَنَائِزِ
بَابُ مَا جَاءَ فِي غَسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَغَسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
1465حسنحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ» ثُمَّ قَالَ: «مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ، فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ»
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب : خاوند کا بیوی کو اور بیوی کا خاوند کو غسل دینا
ترجمہ : عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بقیع سے آئے تو دیکھا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور میں کہہ رہی ہوں: ہائے میرا سر! نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ عائشہ !میں( کہتا ہوں): ہائے میرا سر! ‘‘ پھر فرمایا: ’’تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری وفا مجھ سے پہلے ہوگئی؟ ( اس صورت میں) میں خود تمہارے لیے( کفن دفن کا) اہتمام کروں گا ، تمہیں خود غسل دوں گا ، خوف کفن پہناؤں گا، خود تمہارا جنازہ پڑھوں گا اور خود دفن کروں گا۔‘‘
تشریح : 1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سند ضعیف قراردیا ہے اور مذید لکھا ہے کہ مذکورہ حدیث کے بعض حصے کے شواہد صحیح بخاری میں ہیں۔جبکہ دیگر محققین نے مذکورہ روایت کوحسن قراردیا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد 43/8182 والا رواء حدیث 700)لہذا مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔2۔یہ واقعہ 29 صفر 11ھ بروز پیر کا ہے دیکھئے۔(الرحیق المختوم ص 624)یہ اس مرض کی ابتداء تھی۔جس میں رسول اللہ ﷺکی وفات ہوئی۔3۔جسمانی تکلیف کا اظہار توکل اور رضا بالقضا کے منافی نہیں۔4۔خاوند اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے۔اور کفن پہنا سکتا ہے۔بعض علماء نے اس حکم کو رسول اللہﷺ کے ساتھ خاص قرار دیا ہے۔لیکن تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔بلکہ صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمعین کے عمل سے اس کی عمومیت ثابت ہے۔جیسا کہ موطا اوربیہقی کی روایات میں ہے۔(ان اسماء بنت عمیس غسلت ابا بکر حین توفی) ابو بکر کی وفات پر اسماء بنت عمیس نے انھیں غسل دیا (موطا امام مالک الجنائز باب غسل المیت والسنن الکبریٰ للبہقی 3/397)ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق وارد ہے کہ انھوں نے اپنی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت رسولﷺ کو انکی وفات پر غسل دیا تھا۔دیکھئے۔(سنن دارقطنی الجنائز باب الصلاۃ علی القبر والسنن الکبریٰ للبہیقی ۔3/396) اس لئے باقی اُمت کے لئے بھی یہی حکم ہے۔اور اسے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
زوجین میں سے کوئی ایک پہلے وفات پا جائے تو دوسرا اسے غسل دے سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
"رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من جنازة من البقيع فوجدني وأنا أجد صداعا في رأسي وأنا أقول وارأساه فقال بل أنا يا عائشة وارأساه ثم قال: ما ضرك لو مت قبلي فكفنتك ثم صليت عليك ودفنتك"
(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی غسل الرجل امراتہ و غسل المراۃ زوجھا: 1465 سنن الدارقطنی، کتاب الجنائز: 1809-1811، السنن الکبری للبیہقی، کتاب الجنائز، باب الرجل یغسل امراتہ اذا ماتت: 6/396۔ سنن الدارمی: 1/39۔ مسند ابی یعلی: 8/56)
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک آدمی کے جنازے سے) بقیع سے واپس لوٹے۔ آپ نے مجھے اس حالت میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا اور میں ہائے ہائے کر رہی تھی۔ آپ نے فرمایا اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں بھی درد ہو رہا ہے۔ پھر فرمایا: تجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گئی تو میں تجھے غسل دوں گا اور کفن پہناؤں گا اور تیرا جنازہ پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا۔"
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
"لو كنت استقبلت من أمري ما استدبرت ما غسل النبي صلى الله عليه وسلم غير نسائه"
(ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی غسل امراتہ و غسل المراۃ زوجھا: 1464، مسند ابی یعلی: 7/468۔ مسند احمد: 6/267۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز: باب فی ستر المیت عند غسلہ: 3141۔ السنن الکبری للبیہقی: 3/398 مستدرک حاکم: 3/50۔ موارد الظمآن: 2157، شرح السنۃ: 5/308، مسند شافعی: 1/211)
"اگر مجھے پہلے یہ بات یاد آ جاتی جو مجھے بعد میں یاد آئی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویوں کے سوا کوئی غسل نہ دیتا۔"
قاضی شوکانی رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:
"فيه دليل على أن المرأة يغسلها زوجها إذا ماتت وهي تغسله قياساً" (نیل الاوطار: 4/31)
اس حدیث میں دلیل ہے کہ عورت جب مر جائے تو اس کو اس کا خاوند غسل دے سکتا ہے اور اس دلیل سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت بھی خاوند کو غسل دے سکتی ہے۔ کیونکہ شوہر اور بیوی کا ایک پردہ ہے جس طرح مرد عورت کو دیکھ سکتا ہے اسی طرح عورت بھی مرد کو دیکھ سکتی ہے۔
علامہ محمد بن اسماعیل صاحب سبل السلام رحمۃ اللہ علیہ راقم ہیں:
"فيه دلالة على أن للرجل أن يغسل زوجته وهو قول الجمهور"(سبل السلام: 2/741'742)
اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے اور یہی قول جمہور ائمہ محدثین رحمہم اللہ اجمعین کا ہے۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ محترمہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا تھا۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں کہ:
"أن أسماء بنت عميس غسلت أبا بكر الصديق حين توفى"
(المؤطا للامام مالک، کتاب الجنائز: 133، مع ضوء السالک، المصنف لعبدالرزاق: 3/410 الاوسط لابن المنذر: 5/335، شرح السنۃ: 5/308
جس وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے انہیں غسل دیا۔ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:
"أن أسماء بنت عميس غسلت أبا بكر الصديق حين توفى"
(دارقطنی، باب الصلاۃ علی القبر: 1833، السنن الکبری للبیہقی: 3/396 المصنف لعبد الرزاق: 3/410، شرح السنۃ: 5/309، مسند شافعی: 1/211، حلیۃ الاولیاء: 2/43 فی ترجمۃ فاطمۃ رضی اللہ عنہا و اسنادہ حسن)
"بلاشبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ انہیں ان کا خاوند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا غسل دیں تو ان دونوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غسل دیا۔"
علامہ احمد حسن محدث دھلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"يدل على أن المراة يغسلها زوجها وهى تفسله بإجماع الصحابة لأنه لم ينقل من سائر الصحابة إنكار على أسماء و على فكان إجماعا" (حاشیه بلوغ المرام: 105)
"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کو اس کا شوہر غسل دے سکتا ہے اور وہ اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے اس پر صحابہ کا اجماع ہے۔ اس لئے کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر کسی بھی صحابی کا انکار منقول نہیں تو یہ مسئلہ اجماعی ہوا۔"
عورت کا اپنے شوہر کو غسل دینا تو سب اہل علم کے ہاں متفق علیہ ہے۔
(الاوسط لابن المنذر 334/5)
البتہ مرد کا اپنی بیوی کو غسل دینا مختلف فیہ ہے۔ جمہور ائمہ محدثین رحمھم اللہ اجمعین کے ہاں جائز و درست ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ امام ابوبکر محمد بن ابراہیم المعروف بابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ نے علقمہ، جابر بن زید، عبدالرحمٰن بن الاسود، سلیمان بن یسار، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن، قتادہ، حماد بن ابی سلیمان، مالک اوزاعی، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راھویہ جیسے کبار ائمہ و محدثین رحمھم اللہ اجمعین سے یہی بات نقل کی ہے۔ (الاوسط: 5/335'336)
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
Tuesday, 26 May 2020
imam ka qawl Qur'an hadees sahaba
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته…!
#الموضوع: عقيدة الأئمة الأربعة…!
(هناك خير في اتباع القرآن والسنة، الى جانب كل ھو كاذب و شر)
👈👈 من أقوال الإمام أبی حنيفة ؒ
1. يقول الإمام أبوحنیفہ ؒ:
(#الف)۔ حرام علي من لم يعرف دليلي ان يفتي بكلامي ۔ (میزان للشعرانی ،عقدالجید: 70)
"كسى كے لئے حرام ہے کہ جو میرے ثبوت کو نہیں جانتا تھا کہ وہ میرا کلام سنائے۔‘‘
(#ب)۔ اذا قلت قولا و كتاب الله يخالفه فاتركوا قولي بكتاب الله فقيل اذا كان خبرالرسول صلي الله عليه وسلم يخالفه قال اتركوا قولي بخبرالرسول صلي الله عليه وسلم فقيل اذا كان قول الصحابة يخالفه قال اتركوا قولي يقول الصحابة -(عقد الجید: 53)
’’جب میرا قول قرآن کے خلاف ہوتو اسے چھوڑ دو۔ (لوگوں نے) پوچھا! جب آپ کا قول حدیث کے خلاف ہو ؟ فرمایا اس وقت بھی چھوڑ دو، پھر پوچھا جب صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فرمان کے خلاف ہو تو؟ کہا، تب بھی چھوڑ دو۔‘‘
(#ج)۔ اذا رايتم كامنا يخالف ظاهر الكتاب والسنة فاعملوا بالكتاب والسنة واضربوا بكلامنا الحائط (میزان للشعرانی ، عقدالجید 53)
’’جب دیکھو کہ ہمارے قول قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو قرآن و حدیث پر عمل کرو اور ہمارے اقوال کو دیوار پر دے مارو۔‘‘
(#د)۔ امام ابوحنیفہ ؒ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے فرماتے ہیں: "اذا صح الحديث فهو مذهبي" (عقد الجید)
’’جب صحیح حدیث مل جائے (جانو کہ ) میرا مذہب وہی ہے ‘‘
(#و)۔ ماجاء عن رسول الله صلي الله عليه وسلم فعلي الراس والعين۔ (ظفرالاماني)
’’جو حدیث سے ثابت ہو وہ سر آنکھوں پر ہے ۔‘‘
(#ہ)۔ وقال الامام ابوحنيفة "لاتقلدوني ولا تقلدون مالكا ولا غيره وخذ الاحكام من حيث اخذوا من الكتاب والسنة"
كذا في الميزان (تحفہ الاضیاء فی بیان الابراء)
’’میری تقلید نہ کرنا اور نہ مالک کی اور نہ کسی اور کی تقلید کرنا اور احکام دین وہاں سے لینا جہاں سے انہوں نے لیئے ہیں یعنی قرآن و حدیث سے ۔‘‘
#حاصل: ان اقوال سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف ظاہر ہے کہامام ابوحنیفہؒ کا عقیدہ مذہب قرآن و حدیث ہے جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہ قابل عمل ہے اس کے علاوہ فرمایا کہ میری تقلید نہ کرنا اور نہ ہی بغیر دلیل کے میری باتوں کو ماننا ،صرف قرآن وحدیث پر عمل کرنا اور بے شک موصوف نے کتنی حق بات کہی ہے۔
👈👈من اقوال الامام مالك أنسؒ
2. امام مالک ؒ فرماتے ہیں:
(#الف)۔ ما من احدا لا وهو ماخوذ من كلامه و مردود عليه الا رسول الله صلي الله عليه وسلم۔ (عقدالجید 70)
کوئی بھی (درست) نہیں ہوتا جو (صرف) اسی کے الفاظ ہوں اور (وہ بات) رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مقابلے میں ناقابل قبول ہے۔
اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کی بعض باتیں درست اور بعض غلط نہ ہوں پھر اس کی درست باتیں لے لی جاتی ہیں اور غلط رد کردی جاتی ہیں سوائے محمدﷺ کے کہ تمام باتیں صحیح و درست اور مان ہی لینے کے لائق ہیں ۔ایک بات بھی ساری زندگی کی چھوڑنے کے قابل نہیں ۔‘‘
(#ب)۔ انما انا بشر اخطي واصيب فانظروا في راي فكل ماوافق الكتاب والسنة فخذوه وكل مالم يوافق فاتركوه۔ (جلب المنفعۃ: 74)
’’میں صرف ایک انسان ہوں کبھی میری بات درست ہوتی ہے اور کبھی غلط، تو تم میری اس بات کو جو قرآن وحدیث کے مطابق ہو لے لیا کرو اور اس بات کو جو اس کےخلاف ہو چھوڑ دیا کرو (یعنی میری جامد تقلید مت کرو)۔‘‘
👈👈 من أقوال الإمام محمد ابنِ إدريس الشافعیؒ
3. امام شافعی ؒ نے فرمایا:
(#الف)۔ قال الشافعي "اذا قلت قولا وكان النبي صلي الله عليه وسلم قال خلاف قولي فما يصح من حديث النبي اولي ولا تقلدوني". (عقدالجید 54)
’’جب میں کوئی بات کہوں جبکہ رسول الله میرے قول کے (پہلے ہی) خلاف ہوں تو جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہی اول ہے، میری تقلید مت کرو۔‘‘
(#ب)۔ انه كان يقول "اذا صح الحديث فهو مذهبي اذا رايتم كلامي بخلاف الحديث فاعلموا بالحديث واضربوا بكلامي الحائط". (عقدالجید 70)
’’جب صحیح حدیث مل جائے (جانو کہ ) میرا مذہب وہی ہے اور جب میرے کلام کو حدیث کے مخالف دیکھو تو حدیث پر عمل کرو اور میرے کلام کو دیوار پر دے مارو۔‘‘
(#ج)۔ فقد صح عن الشافعي انه نهي من تقليده وتقليد غيره۔ (عقدالجید)
’’امام شافعی ؒ سے یہ بات پہنچی کہ انھوں نے اپنی تقلید اور غیر کی تقلید سے منع کیا ہے ۔‘‘
👈👈من أقوال الٕامام احمد ابنِ حنبلؒ
4. امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا:
(#الف)۔ ولا تقلدني ولا تقلد مالكا ولا الشافعي ولا الاوزاعي ولا الثوري وخذو الاحكام من حيث اخذو ا من الكتاب والسنة۔ (عقدالجید70)
’’اور میری تقلید نہ کرنا اور نہ ہی (امام) مالک کی اور نہ (امام) شافعی کی اور نہ (امام) اوزاعی کی اور نہ (امام) ثوری کی، اور جہاں سے یہ (تمام) دین کےاحکام (و مسائل) لیتے تھے تم بھی قرآن و سنت سے ہی لینا۔‘‘
(#ب)۔ وكان الامام احمد يقول "ليس لاحد مع الله ورسوله كلام۔" (عقد الجید)
’’ کسی کو الله اور اس کے رسولﷺ کے کلام پر کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘
#حاصل: ان چاروں محترم آئمہ کے اقوال سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کےمطابق "ما انا عليه واصحابي" کا راستہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا یہ سب کے سب قرآن وحدیث پر عمل کرتے تھے یہی ان کا مذہب تھا ان چاروں آئمہ نے تقلید سے منع کیا کیونکہ یہ ہوتی ہی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور یہ بھی کہ کسی آئمہ نے بھی علیحدہ مذہب اپنے نام سے منسوب کر کے مرتب نہیں کیا، یا اہسا کرنے کا حکم بھی جاری نہیں فرمایا۔
#نبی_کریمﷺ نےفرمایا سب سے بہتر اہل زمانہ میرے ہیں ،پھر وہ جو ان کے بعد والے ہیں اپنے زمانہ کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا۔ (بخاری)
علامہ ابن حجر ؒ فتح الباری پارہ 14 باب فضائل اصحاب النبی ﷺمیں تحریر فرماتے ہیں کہ
"تبع تابعین دو سو بیس (220) برس تک زندہ رہے ان کےزمانے میں بھی کسی خاص شخص کی تقلید و خاص شخص کا مذہب کسی کا نہ تھا محترم آئمہ کرام ؒ کے شاگردوں نے بعض مسائل میں اختلاف کیا ہے اس لیے کہ وہ مقلد نہ تھے۔ بلکہ انھوں نے بھی قرآن و حدیث کو ہی تھاما تھا، اسی وجہ سے اختلاف بھی ہوتا تھا، مگر سبھی رجوع کرتے تھے۔" اور اسی بنا پر کئی بار #التوبة والا معاملہ بھی ہوا کرتا تھا۔
Monday, 25 May 2020
Subscribe to:
Posts (Atom)