Tuesday, 26 May 2020

imam ka qawl Qur'an hadees sahaba

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته…!

#الموضوع: عقيدة الأئمة الأربعة…!
(هناك خير في اتباع القرآن والسنة، الى جانب كل ھو كاذب و شر)

👈👈 من أقوال الإمام أبی حنيفة ؒ

1.  يقول الإمام أبوحنیفہ ؒ:

(#الف)۔ حرام علي من لم يعرف دليلي ان يفتي بكلامي ۔ (میزان للشعرانی ،عقدالجید: 70)
"كسى كے لئے حرام ہے کہ جو میرے ثبوت کو نہیں جانتا تھا کہ وہ میرا کلام سنائے۔‘‘

(#ب)۔ اذا قلت قولا و كتاب الله يخالفه فاتركوا قولي بكتاب الله فقيل اذا كان خبرالرسول صلي الله عليه وسلم يخالفه قال اتركوا قولي بخبرالرسول صلي الله عليه وسلم فقيل اذا كان قول الصحابة يخالفه قال اتركوا قولي يقول الصحابة -(عقد الجید: 53)
’’جب میرا قول قرآن کے خلاف ہوتو اسے چھوڑ دو۔ (لوگوں نے) پوچھا! جب آپ کا قول حدیث کے خلاف ہو ؟ فرمایا اس وقت بھی چھوڑ دو، پھر پوچھا جب صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فرمان کے خلاف ہو تو؟ کہا، تب بھی چھوڑ دو۔‘‘

(#ج)۔ اذا رايتم كامنا يخالف ظاهر الكتاب والسنة فاعملوا بالكتاب والسنة واضربوا بكلامنا الحائط (میزان للشعرانی ، عقدالجید 53)
’’جب دیکھو کہ ہمارے قول قرآن و حدیث کے خلاف ہیں تو قرآن و حدیث پر عمل کرو اور ہمارے اقوال کو دیوار پر دے مارو۔‘‘

(#د)۔  امام ابوحنیفہ ؒ کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے لائق ہے فرماتے ہیں:  "اذا صح الحديث فهو مذهبي" (عقد الجید)
’’جب صحیح حدیث مل جائے (جانو کہ ) میرا مذہب وہی ہے ‘‘

(#و)۔ ماجاء عن رسول الله صلي الله عليه وسلم فعلي الراس والعين۔ (ظفرالاماني)
’’جو حدیث سے ثابت ہو وہ سر آنکھوں پر ہے ۔‘‘

(#ہ)۔ وقال الامام ابوحنيفة "لاتقلدوني ولا تقلدون مالكا ولا غيره وخذ الاحكام من حيث اخذوا من الكتاب والسنة"
كذا في الميزان (تحفہ الاضیاء فی بیان الابراء)
’’میری تقلید نہ کرنا اور نہ مالک کی اور نہ کسی اور کی تقلید کرنا اور احکام دین وہاں سے لینا جہاں سے انہوں نے لیئے ہیں یعنی قرآن و حدیث سے ۔‘‘

#حاصل: ان اقوال سے یہ بات روز روشن کی طرح صاف ظاہر ہے کہامام ابوحنیفہؒ کا عقیدہ مذہب قرآن و حدیث ہے جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہ قابل عمل ہے اس کے علاوہ فرمایا کہ میری تقلید نہ کرنا اور نہ ہی بغیر دلیل کے میری باتوں کو ماننا ،صرف قرآن وحدیث پر عمل کرنا اور بے شک موصوف نے کتنی حق بات کہی ہے۔ 

👈👈من اقوال الامام مالك أنسؒ

2. امام مالک ؒ فرماتے ہیں: 

(#الف)۔ ما من احدا لا وهو ماخوذ من كلامه و مردود عليه الا رسول الله صلي الله عليه وسلم۔ (عقدالجید 70)
کوئی بھی (درست) نہیں ہوتا جو (صرف) اسی کے الفاظ ہوں اور (وہ بات) رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مقابلے میں ناقابل قبول ہے۔ 
اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں کہ جس کی بعض باتیں درست اور بعض غلط نہ ہوں پھر اس کی درست باتیں لے لی جاتی ہیں اور غلط رد کردی جاتی ہیں سوائے محمدﷺ کے کہ تمام باتیں صحیح و درست اور مان ہی لینے کے لائق ہیں ۔ایک بات بھی ساری زندگی کی چھوڑنے کے قابل نہیں ۔‘‘

(#ب)۔ انما انا بشر اخطي واصيب فانظروا في راي فكل ماوافق الكتاب والسنة فخذوه وكل مالم يوافق فاتركوه۔ (جلب المنفعۃ: 74)
’’میں صرف ایک انسان ہوں کبھی میری بات درست ہوتی ہے اور کبھی غلط، تو تم میری اس بات کو جو قرآن وحدیث کے مطابق ہو لے لیا کرو اور اس بات کو جو اس کےخلاف ہو چھوڑ دیا کرو (یعنی میری جامد تقلید مت کرو)۔‘‘

👈👈 من أقوال الإمام محمد ابنِ إدريس الشافعیؒ

3. امام شافعی ؒ نے فرمایا:

(#الف)۔ قال الشافعي "اذا قلت قولا وكان النبي صلي الله عليه وسلم قال خلاف قولي فما يصح من حديث النبي اولي ولا تقلدوني". (عقدالجید 54)
’’جب میں کوئی بات کہوں جبکہ رسول الله میرے قول کے (پہلے ہی) خلاف ہوں تو جو مسئلہ حدیث سے ثابت ہو وہی اول ہے، میری تقلید مت کرو۔‘‘

(#ب)۔ انه كان يقول "اذا صح الحديث فهو مذهبي اذا رايتم كلامي بخلاف الحديث فاعلموا بالحديث واضربوا بكلامي الحائط". (عقدالجید 70)
’’جب صحیح حدیث مل جائے (جانو کہ ) میرا مذہب وہی ہے اور جب میرے کلام کو حدیث کے مخالف دیکھو تو حدیث پر عمل کرو اور میرے کلام کو دیوار پر دے مارو۔‘‘

(#ج)۔ فقد صح عن الشافعي انه نهي من تقليده وتقليد غيره۔ (عقدالجید)
’’امام شافعی ؒ سے یہ بات پہنچی کہ انھوں نے اپنی تقلید اور غیر کی تقلید سے منع کیا ہے ۔‘‘

👈👈من أقوال الٕامام احمد ابنِ حنبلؒ

4. امام احمد بن حنبل ؒ نے فرمایا:

(#الف)۔ ولا تقلدني ولا تقلد مالكا ولا الشافعي ولا الاوزاعي ولا الثوري وخذو الاحكام من حيث اخذو ا من الكتاب والسنة۔ (عقدالجید70)
’’اور میری تقلید نہ کرنا اور نہ ہی (امام) مالک کی اور نہ (امام) شافعی کی اور نہ (امام) اوزاعی کی اور نہ (امام) ثوری کی، اور جہاں سے یہ (تمام) دین کےاحکام (و مسائل) لیتے تھے تم بھی قرآن و سنت سے ہی لینا۔‘‘

(#ب)۔ وكان الامام احمد يقول "ليس لاحد مع الله ورسوله كلام۔" (عقد الجید)
’’ کسی کو الله اور اس کے رسولﷺ کے کلام پر کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘

#حاصل: ان چاروں محترم آئمہ کے اقوال سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کےمطابق "ما انا عليه واصحابي" کا راستہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا یہ سب کے سب قرآن وحدیث پر عمل کرتے تھے یہی ان کا مذہب تھا ان چاروں آئمہ نے تقلید سے منع کیا کیونکہ یہ ہوتی ہی قرآن و سنت کے خلاف ہے اور یہ بھی کہ کسی آئمہ نے بھی علیحدہ مذہب اپنے نام سے منسوب کر کے مرتب نہیں کیا، یا اہسا کرنے کا حکم بھی جاری نہیں فرمایا۔ 

#نبی_کریمﷺ نےفرمایا سب سے بہتر اہل زمانہ میرے ہیں ،پھر وہ جو ان کے بعد والے ہیں اپنے زمانہ کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا۔ (بخاری)

علامہ ابن حجر ؒ فتح الباری پارہ 14 باب فضائل اصحاب النبی ﷺمیں تحریر فرماتے ہیں کہ
"تبع تابعین دو سو بیس (220) برس تک زندہ رہے ان کےزمانے میں بھی کسی خاص شخص کی تقلید و خاص شخص کا مذہب کسی کا نہ تھا محترم آئمہ کرام ؒ کے شاگردوں نے بعض مسائل میں اختلاف کیا ہے اس لیے کہ وہ مقلد نہ تھے۔ بلکہ انھوں نے بھی قرآن و حدیث کو ہی تھاما تھا، اسی وجہ سے اختلاف بھی ہوتا تھا، مگر سبھی رجوع کرتے تھے۔" اور اسی بنا پر کئی بار #التوبة والا معاملہ بھی ہوا کرتا تھا۔

No comments:

Post a Comment