Monday, 20 April 2020

Kia ALLAH ka NABI By Birth Paidaishi tore peh hi NABI hota hai

Surat No 42 : Ayat No 51

وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحۡیًا اَوۡ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوۡ یُرۡسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذۡنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ﴿۵۱﴾

اور کسی بشر کی بھی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اس سے کلام کرے ، مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کی اوٹ سے بھیجے کسی فرشتہ کو پس وہ وحی کردے اس کے اذن سے جو وہ چاہے ۔ وہ بڑا ہی عالی مقام ، بڑا ہی حکیم ہے ۔
1: dil mai daal diya jaye (ilqa karna)
2: parday mai 
3: rasool baijy (jibrael a.s)

Surat No 42 : Ayat No 52 

وَ کَذٰلِکَ  اَوۡحَیۡنَاۤ  اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا  الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ  نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ  بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ  مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ  اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿ۙ۵۲﴾

 اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی وحی کی ہے ایک روح – اپنے امر میں سے ۔   نہ تم یہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور نہ جانتے تھے کہ ایمان کیا ہے ،  لیکن ہم نے اس کو ایک نور بنایا ،  جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اور بیشک تم ایک سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کر رہے ہو ۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ   . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ.

 لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا: ”جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“ ۱؎۔  ( یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی )  ۔ 
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں میسرہ فجر سے بھی روایت آئی ہے۔ 

Jam e Tirmazi#3609


No comments:

Post a Comment